الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چنگی کا محصول

سوال

احقر سے دو مسلمانوں نے متفرق وقتوں میں فرداً فرداً یہ تذکرہ کیا کہ محصول چنگی یعنی وہ محصول جو اشیاء کی درآمد پر لیا جاتا ہے اس کا ادا کرنا نا جائز ہے مثلاً ایک شخص کسی گاؤں سے بکری لے کر سہارنپور شہر میں لاوے خواہ فروخت کی نیت سے یا پالنے کی نیت سے تو سہارنپور کا محکمہ محصول (میونسپلٹی) اس سے چند پیسے بطور محصول بکری کے لے لیں گے، تو یہ پیسے بطور محصول ادا کرنا جائز نہیں ہے، مگر چونکہ ادا کئے بغیر کام نہیں بنتا اس لئے اس کو برداشت کر کے صبر کرے کیا ایسا مسئلہ شریعت مقدسہ میں ہے۔

جواب

مروجہ چنگی ظلم ہے اور جس طرح ظلم نا جائز اور حرام ہے اسی طرح ظلم کی اعانت ناجائز ہے، اور چنگی ادا کرنے سے ظلم کی اعانت ہوتی ہے۔ لہذا نا جائز ہے مگر چنگی ادا نہ کرنے سے دوسرے بڑے مصائب کا سامنا ہوتا ہے، اس لئے دفع ظلم کیوجہ سے چنگی کی ادائیگی پر صبر کیا جاتا ہے، ”من ابتلیٰ ببلیتین یختار اهونهما “ جب ان منصف صاحب کے متعلق پختہ طور پر آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے رشوت لینا بند کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو