اجارہ اور تجارت کے احکام
سوال
میں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں جماعت میں بتلایا جاتا ہے کہ ہر کام کرنے سے پہلے اس کا طریقہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت جس ڈھنگ سے کرنے کو بتلاتی ہے، اس کو علماء حضرات سے معلوم کر کے پھر اس کام کو کرو تا کہ وہ دین اور ثواب دلوانے والا بن سکے؟ (۱) لہذا میں ملازمت کرتا ہوں مجھے صاف صاف اس بات سے آگاہ کریں کہ ملازمت میں کون کون سا حکم ٹوٹے گا تو قیامت کے دن خون کے آنسو رونے پڑیں گے، تاکہ جان کر ان ٹوٹنے والے حکم کی نگہداشت کی جاسکے، مفتی صاحب اس بات سے آگاہ کر دیں کہ ملازمت کے یہ کام خداوندی ہیں، جن…
جواب
(۱) ملازمت سے پہلے نیت صحیح ہو کہ حلال روزی کے ذریعہ اپنی اور اپنے متعلقین کی حوائج ضروریہ کو پورا کرنا ہے، تاکہ چوری غصب بھیک وغیرہ سے اللہ پاک محفوظ رکھے، اور دین کی خدمت اور مخلوق کی اعانت مقصود ہو، خود شغل ملازمت نا جائز نہ ہو، عین ملازمت کی حالت میں ناجائز امور کا ارتکاب نہ ہو، مثلاً جھوٹ دھو کہ خیانت وغیرہ ملازمت کی وجہ سے کوئی حکم شرعی نہ ٹوٹے مثلاً اس کی مشغولیت سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔