کرایہ کے مکان میں کرایہ دار کو توسیع و تعمیر کا حق
سوال
ایک شخص غلام محمد کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، انہوں نے اس میں دو گیرج بنوا کر ۹۰۰۰ روپیہ اڈوانس لے کر ہدایت کو، ۱-۱۰ار ماہوار دیدیا اس طرح کرنے پر میونسپل بورڈ کا ٹیکس بڑھ گیا، اور مالک مکان نے مکان خالی کرانے کیلئے عدالت کا سہارا لیا اور جھگڑا بڑھ گیا، غلام محمد کے بہنوئی نے مالک مکان سے ۱۲۰۰ روپیہ دے کر فیصلہ کر لیا، اور رسید اپنے نام لکھائی اور خود بھی اپنی بیوی بچوں کو لے کر اس مکان میں آکر رہنے لگا اب آپ سے یہ دریافت کرنا ہے۔ (۱)
جواب
حکم شرعی یہ ہے کہ جتنی مدت کے لئے مکان کرایہ پر لیا گیا ہے، مدت پوری ہونے پر مالک مکان خالی کرانا چاہے تو خالی کر دیا جائے ممالک کی اجازت ورضامندی کے بغیر کرایہ دار کو اس پر قبضہ رکھنا اور خالی نہ کرنا جائز نہیں، نیز اس کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنانا، اور دوسروں کو کرایہ پر دینے کا حق نہیں، غلام محمد نے اگر مالک کی اجازت کے بغیر دو گیرج بنا کر ڈپوزٹ لے کر ان کو کرایہ پر دیدیا،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔