کیا کرایہ دار دوکان دوسرے کرائے دار کو دے سکتا ہے؟
سوال
یہاں ایک صاحب ہیں، انہوں نے مسجد کی ایک دوکان کئی سال سے کرایہ پر لے رکھی ہے، بذات خود وہ اس کو استعمال نہیں کرتے، بلکہ ہمیشہ دوسرا کرایہ دار رکھتے ہیں، دوکان کا کرایہ مسجد کو آٹھ روپے دیتے ہیں، اور خود کرایہ دار سے پندرہ روپے وصول کرتے ہیں، اس طرح سات روپے ہر ماہ نفع کماتے ہیں؟
جواب
یہ نفع لینا درست نہیں، اگر چہ سود بھی نہیں، اگر دوکان پر کچھ خرچ کر کے مثلاً اس میں الماری کواڑ وغیرہ لگا کر اس کی حیثیت کو بڑھایا ہو تو اتنی حد تک نفع لینے کی اجازت ہے، کمیٹی کو اختیار ہے کہ اصل کرایہ دار کے معاملہ کو ختم کر کے شکمی کرایہ دار سے معاملہ کرے، اور کرایہ دار کو چاہئے کہ اپنا واسطہ درمیان سے ختم کر دے، اور مسجد کی دوکان سے خود اس طرح نفع نہ کمائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔