الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ دار کے انتقال کے بعد کیا دوسرے کی طرف کرایہ داری منتقل کی جاسکتی ہے؟

سوال

میرے شوہر نے ایک دوکان مسجد کے قریب ۲۲ سال قبل پانچ روپیہ ماہوار کرایہ پر لی تھی، اور اس میں اپنا کاروبار کرتے تھے، اور کرایہ ماہ بماہ ادا کرتے تھے، اب ۳ مارچ ۱۹۷۳ء کو ان کا انتقال ہو گیا، انہوں نے چار بچے چھوڑے، جو کہ سات برس سے سب کم ہی کم ہیں، اور ایک میں خود اور میری ساس ان کے انتقال کے بعد متولی صاحب نے کرایہ لینے سے انکار کر دیا، اور کہتے ہیں کہ دوکان خالی کر دو، ایک طرف دوسرے صاحب کہتے ہیں کہ روپے لے کر مجھے دوکان کا قبضہ دیدو، اب معلوم کرنا یہ چاہتے ہیں کہ دوکان پر کرایہ لے کر قبضہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

آپ کو حق نہیں کہ روپے لے کر کسی کو دوکان پر قبضہ دیں، بلکہ متولی کے کہنے کے موافق خالی کر دیں، وہ جس کو چاہیں گے کرایہ پر دیدیں گے، اور جو کرایہ مسجد کے لئے مناسب ہوگا، مقرر کر لیں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو