الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اصل مالک کے انتقال کے بعد کیا وارث کو اس کے معاہدہ کی پابندی ضروری ہے

سوال

زید نے عمر سے ایک مکان دو منزلہ عرصہ میں سال سے کرایہ پر لے رکھا ہے شرائط کرایہ داری یہ ہیں، مبلغ چار روپیہ ماہانہ جس کا سالانہ کرایہ مبلغ اڑتالیس روپیہ ہوتا ہے، زید سے عمر وصول کرتے رہیں، کرایہ داری استمراری رہے گی، اور عمر زید سے کبھی کوئی کرایہ نہ خود بڑھائے گا، اور نہ اس کا پیشرو وارث قائم مقام بڑھے گا، بعدۂ عمر کا انتقال ہو گیا، اس کے بیٹے نے دو روپے ماہوار لڑ کر استحصال بالجبر کیا، اور اس کے بعد بھی ان کی یہ ہوس پوری نہ ہوئی، پھر دوبارہ چار روپیہ بڑھا کر دس روپیہ ماہوار بالجبر وصول کیا، اسی طرح انہوں نے اپنے…

جواب

عمر کو اپنی ملک میں تصرف کا پورا اختیار تھا، جس کرایہ پر انہوں نے چاہا دے دیا، اور جو معاہدہ چاہا کرلیا، اس کے انتقال کے بعد اس کی ملک ختم ہو کر وارث کی ملک ہوگئی، وارث کو اختیار ہے کہ کرایہ سابق پر سابق کرایہ کو دو روپیہ برقرار رکھیں یا کسی سے جدید معاملہ کرلیں، یا کرایہ سابق پر راضی رہیں یا اضافہ کریں کے والد صاحب کے معاہدہ کی پابندی اس کے ذمہ لازم نہیں، والد صاحب کے تعلقات…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو