الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جتنے کرایہ پر مکان لیا ہے اس سے زائد کرایہ پر دینا

سوال

میرا مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے، کیونکہ میرے لڑکے وہاں رہتے ہیں، میں ان سے علاحدہ رہتا ہوں لیکن وہاں کرایہ کے مکان میں رہنا چاہتا ہوں، اگر میں وہاں کوئی موزوں فلیٹ چھ آٹھ ہزار ریال پر لے لوں، اور زمانہ حج میں مثلاً پندرہ ہزار ریال پر حجاج کو کرایہ پر دیدوں، تو اس صورت میں مجھے آسانی سے آٹھ ہزار ریال کا منافع ہو جائیگا، تو سوال یہ ہے کہ میں قرض حسنہ لیکر اسی مکان کو جس کو میں نے کرایہ پر لیا ہے، اس سے زائد کرایہ پر دوسروں کو دے سکتا ہوں کہ نہیں؟ جواب سے مطلع فرمائیں؟

جواب

جو صورت آپ چاہتے ہیں یہ تو حدود حرم مبارک کے باہر کسی اور جگہ بھی درست نہیں جتنی رقم کسی جگہ بھی کرایہ مکان کی آپ ادا کریں، اتنی رقم پر دوسرے کو دے سکتے ہیں، اگر اس سے زیادہ رقم لیں گے تو اس کو صدقہ کر دینا ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو