الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مکان یا دوکان کو کرایہ دار سے خالی کرانا

سوال

آیا کرایہ دار مکان یا دوکان سے زائد کرایہ شرعاً وصول کیا جا سکتا ہے، یا مکان اور دوکان کرایہ دار سے خالی کرائی جاسکتی ہے، کیونکہ آج کل قانون سرکار ہے کہ نہ دوکان خالی کرائی جاسکتی ہے، اور نہ کرایہ میں اضافہ ہوسکتا ہے، اگر مسلمان کرایہ نہ بڑھائے، اور نہ خالی کرے، تو عنداللہ ماخوذ ہوگا؟

جواب

دوکان مکان کے مالک کو اختیار ہے کہ جتنی مدت کے لئے کرایہ کا معاملہ کیا تھا، اس کے گزر جانے پر کرایہ دار سے خالی کرالے، یہ بھی اختیار ہے، کہ زائد کرایہ کا معاملہ کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو