الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ دار دو کان خالی نہ کرے تو

سوال

زید نے اپنی دوکان پر رشید احمد کو مقرر کیا کہ میری دوکان کسی کو کرایہ پر دیدو طے پایا کہ جب بھی مجھے ضرورت ہوگی، آپ کو خالی کرا کر ہم کو دینی ہوگی، اب مالک کو ضرورت ہے، مگر کرایہ دار خالی نہیں کرتا، اب میں کیا کروں مجبور ہوں؟

جواب

مالک کو بیع وشراء کا اختیار ہے، دوکان خالی کرانے کے لئے جو تدبیر مقدمہ وغیرہ کی مناسب و مؤثر ہو اختیار کر سکتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو