موت مستاجر سے فسخ اجاره
سوال
السلام علیکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کے بزرگان ایک آراضی کرایہ چار آنہ لیکر اپنے لئے مکان رہائش تیار کرتے ہیں، جس کو عرصہ تخمیناً چند سالہ ہو جاتا ہے، آج کل وہی زمین قیمتی ہو گئی ہے، مالکان موجودہ خواہش کرتے ہیں، کہ بکر زمین کو چھوڑ دے، یا چار آنہ سے زیادہ سالانہ کرایہ مقرر کرے، مگر بکر نہ زمین چھوڑتا ہے، اور نہ کرایہ بڑھاتا ہے، بلکہ یہی کہتا ہے کہ میرے بزرگوں سے مقرر ہو چکا ہے، اسی کرایہ پر قابض رہوں گا، بلکہ بعض سال اس کرایہ کو بھی ادا نہیں کرتا، اور خلاف مرضی مالکان بلا دریافت زمین مکان…
جواب
اور اگر بکر کے بزرگوں نے کوئی مدت کرایہ داری کی متعین نہیں کی تھی، تو یہ اجارہ فاسدہ تھا، جس کا فسخ کرنا واجب ہے، ”افادان ركنها الايجاب والقبول وشرطها كون الاجرة والمنفعة معلومتين لان جهالتهما تفضى الى المنازعة ويعلم النفع ببيان المدة كالسكنى والزراعة مدة كذا در مختار ج ۵ ص ۲ “ اگر بکر تائب ہو کر اس معاملہ کو شریعت کے موافق کرے تو خیر ورنہ کسی دوسرے شخص کو (جو کہ امامت کا اہل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔