ايضاً
سوال
بکر کے بزرگوں نے اپنی رہائش کے لئے زمین سفید بغرض بنانے مکان رہائش خود مالکان زمین سے بلا تقرر میعاد ایک قلیل رقم رعیتانہ ۴ر یا ۸ر سالانہ پر زمین حاصل کی اور اس پر مکان خام تیار کیا معلوم ہوا ہے کہ اس زمین کو حاصل کرنے والا بکر مذکور کا دادا پر دادا تھا، آج تک بکر اور اس کے بزرگان اس میں آباد رہے، علاوہ زر رعیتانہ چار آنہ یا آٹھ آنہ سالانہ کے بکر کے بزرگان کو بحیثیت رعایا حسب رواج قدیم ساڈھوہ کچھ حسب ضرورت مالک کا بیگار بھی دینا پڑتی تھی، مثلاً گاڑی، اناج، گاڑی گھاس وغیرہ آنے پر اس کا اتروانا بوقت ضرورت پلنگ وغیرہ…
جواب
یہ اجارہ فاسدہ ہے کیونکہ اس میں مدت کا تقرر نہیں کیا گیا، اور صحت اجارہ کیلئے مدت کا بیان کرنا شرط ہے، ” ومنها بيان المدة في الدور والمنازل والحوانيت. عالمگیری ج ۳ ص ۱۰۸۹“ ” سئل عمن قال لأخر اجرتك هذه الدار بحدودها وحقوقها بكذا درهما موصوفاً بصفة كذا الى عشرة اشهر كذا من سنة كذا على ان تسكنها ان شئت وذكر شرائط الصحة هل تصح هذه الاجارة فقال لالانه لم يبين اول المدة فكانت مجهولة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔