قرآن سنانے کی اجرت
سوال
ایک شخص حافظ قرآن ہے، عرصہ سولہ، سترہ سال سے ماہ رمضان المبارک کے موقعہ پر لوگوں کو مسجدوں میں سنایا کرتا ہے، اور ختم قرآن کریم پر رسم کے طور پر ہر سال معقول رقم حاصل کرتا ہے، جس کی بچت وہ جمع کر کے اسی پونجی میں شامل کرتا ہے، نیز یہ شخص عام رقوم پس انداز کو ڈاکخانہ سرکاری میں آج تک جمع کرتا ہے، جس پر اس کو ہر سال سود ملتا ہے، جو اصل رقم میں شامل ہو جاتا ہے، اور انہیں رقوم پیدا شدہ سے اس نے چند ایک زیورات خانہ داری اور ایک معمولی مکان رہائش بھی بنایا ہے؟
جواب
یہ سب چیزیں جائز ہیں، بشرطیکہ نا جائز رقم کی مقدار کا تاوان ادا کر دیا جائے، قرآن کریم کے سنانے پر کوئی رقم لینا بغیر طلب بھی نا جائز ہے، لان المعروف کالمشروط البتہ اگر کسی جگہ یہ رواج ہو کہ سنانے والے کو کچھ نہ دیا جاتا ہو اور وہ محض ثواب کی نیت سے سناتا ہو، اور اس کے ذہن میں بھی نہ ہو کہ یہاں سے کچھ ملے گا، یا صاف طور پر تصریح کر دی جائے، کہ یہاں سے کچھ نہ دیا جائیگا، اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔