تراویح اور پنجگانہ امامت اور تعلیم قرآن میں فرق
سوال
قرآن شریف پڑھانے پر اجرت لینے میں اور رمضان شریف میں قرآن سنانے میں اجرت لینے میں کیا فرق ہے؟ اور کونسی اجرت جائز ہے، اگر امامت کی اجرت متولی غریبوں سے دباؤ ڈال کر لیتا ہو تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب
اصل یہ ہے کہ عبادات پر اجرت لینا حرام ہے، مگر فقہاء متاخرین نے بذریعہ اجتہاد بعض مصالح شرعیہ معلوم کر کے امامت اور تعلیم قرآن شریف پر اجارہ کی اجازت دے دی، اور یہ مصالح شرعیہ رمضان میں قرآن شریف سنانے میں موجود نہیں، لہذا اس کی اجرت ناجائز ہے، اور متقدمین کے زمانے میں یہ مصالح امامت اور تعلیم قرآن شریف میں نہ تھیں، اس لئے انہوں نے اس کی اجازت بھی نہیں دی تھی، جبراً کسی غریب سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔