امامت کی تنخواہ
سوال
مساجد کے ائمہ کا کسی معین تنخواہ کے لئے اصرار کرنا اور ان کی مانگ کے مطابق تنخواہ نہ دی جائے تو امامت کا قبول نہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اعلیٰ بات یہ ہے کہ امامت بلا تنخواہ کی جائے، اور مقتدی امام کی ضروریات کا تکفل کریں، مگر نہ امام کا اتنا تحمل ہے نہ وسعت اور نہ مقتدیوں کو اتنا پاس ولحاظ ہے ان حالات کی بنا پر متاخرین فقہاء نے امامت کی تنخواہ کو جائز قرار دیا ہے، ورنہ مساجد معطل ہو جائیں گی، اور جماعت کا اہتمام نہ ہو سکے گا، لہذا طرفین معاملہ صاف صاف طے کر لیں، اور اس کی پابندی کریں، جو تنخواہ طرفین کی رضامندی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔