ادھیا پر دینا
سوال
بکریوں کو ادھیا پر دیتے ہیں یعنی بکری دے دی، جب بچہ پیدا ہوا تو اگر دو ہوئے، تو ایک لے لیا، اور ایک ہوا تو آدھا لے لیا، یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں، اگر نا جائز ہو تو جو طریقہ ادھیا پر دینے کا جائز ہو وہ بتلا دیں؟
جواب
یہ طریقہ درست نہیں ہے، البتہ نصف بکری فروخت کر دیں اور قیمت معاف کر دیں، تو وہ نصف کا شریک ہو جائے گا، نصف بکری اس کی ہوگی اور دودھ بکری بچے سب نصفا نصفی ہوں گے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔