الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پال پر جانور دینا

سوال

ہمارے اطراف میں ایسا ہوتا ہے کہ امیر لوگ جانور خرید کر غریبوں کو پالنے کے لئے دیتے ہیں، بکری اور مرغی کو اس شرط پر دیتے ہیں کہ پیدا ہونے والے بچے میں نصفا نصف کے شریک رہیں گے، مثلاً بکری کے دو بچے پیدا ہوئے، تو ایک مالک کا اور ایک پالنے والے کا، اور گائے بھینس کی قیمت لگا کر دیتے ہیں لیکن دودھ اور بچے میں دونوں برابر کے شریک ہوتے ہیں، اس کے بارے میں تحریر فرمائیں؟

جواب

ایسی صورت میں وہ جانور اور اس سے پیدا ہونے والی چیز انڈے، بچے، دودھ سب اصل مالک کی ہے، اور پالنے والا اجر مثل کا مستحق ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو