ادھیا پر جانور دینا
سوال
اُدھیا جانور دینا جائز ہے یا نہیں، یعنی جانور میرا اور خدمت آپ کی، پھر وہ جانور مدت مقررہ پر سال دو سال میں پہنچے گا، تو پھر ثالث شخص اس جانور کی قیمت ڈال دیتا ہے، فریقین میں جس کا دل چاہتا ہے، جانور رکھ لیتا ہے، اور جس کا دل چاہتا ہے، قیمت لے لیتا ہے، کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اور جواز کی کونسی صورت ہے؟
جواب
یہ صورت اجارہ فاسدہ ہے جو کہ نا جائز ہے، جواز کی صورت یہ ہے کہ جانور کی قیمت بينهما الخ عالمگیری ج ۴، ص ۴۴۵، ۴۴۶ مطبوعہ کوئٹه کتاب الاجارة، الفصل الثاني في لگا کر نصف حصہ فروخت کر دے، اب دوسرا شخص اس نصف کو خریدے، پھر جانور والا اس نصف قیمت کو معاف کر دے، اب اس جانور میں دونوں برابر کے شریک ہیں، اس کی کل منفعت دودھ، بچے وغیرہ بھی مشترک ہیں، اگر فروخت کر دیں، تو قیمت بھی نصفا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔