الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مچھلی کے شکار کی اجرت

سوال

اگر صاحب تالاب مچھلی شکار کرنے کے لئے اہل محلہ وغیرہ کے لوگوں کو بلائے یا خود بخود لوگ آجائیں، اور اس بات پر مچھلی پکڑتے ہیں یا پکڑواتے ہیں، کہ نصف تالاب والے کا اور نصف پکڑنے والے کا، ان صورتوں میں شکار کرنا یا کرانا جائز ہے یا نہیں، اگر جائز ہے تو کس صورت میں جائز ہے؟

جواب

مچھلی تالاب والے کی ملک نہیں، بلکہ جو پکڑے اسی کی ملک ہے، لہذا صورت مسئولہ میں تالاب والے کا کوئی حق نہیں، اس کا اپنے لئے نصف مچھلی مقرر کرنا خلاف شرع و نا جائز ہے، لاتصح الشركة في احتطاب واحتشاش واصطياد واستقاء وسائر مباحات وماحصله اهـ تنویر ج ۳ ص ۵۳۹/۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو