الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرسوں کا تبادلہ تیل سے

سوال

ہمارے اطراف میں سرسوں کا تیل اس طرح لیتے ہیں کہ تیلی کو سرسوں دیکر اور تیل نکلوا کر سرسوں کا چوتھائی تیل اس سے لے لیا جاتا ہے، اگر چہ تیل زائد نکلے اور تیل کی مزدوری سرسوں کی کھلی ہوتی ہے، یا تیلی اپنے پاس سے تیل لاتا ہے، اور اس کو اتنی ہی سرسوں دے دی جاتی ہے، اب دریافت ہے کہ ان صورتوں میں کوئی صورت جائز بھی ہے یا نہیں، اگر نہیں تو کیوں مفصل و مدلل تحریر فرمائیں؟

جواب

یہاں پر کھلی اجرت کو مقرر کیا گیا، جو کہ تیلی کے عمل سے حاصل ہوگی، ثانیا اس لئے کہ اجرت یعنی کھلی کی مقدار مجہول ہے۔ ” وتفسد الاجارة بجهالة المسمى وبعدم التسمية “ تنویر مع الدر ج ۲ ص ۱۷۷ دوسری صورت میں اگر اس تیل کی مقدار جو تیلی دیتا ہے، اس تیل سے زائد ہے، جو سرسوں میں ہے، تب تو یہ بیع جائز ہے کیونکہ جتنا تیل زائد ہے، وہ کھلی کے مقابلہ میں ہے، اور باقی تیل تیل کے مقابلہ میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو