الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کھیت کٹائی کی اجرت

سوال

اگھن ماہ میں جو نو کر دھان کٹوانے کے لئے رکھا جاتا ہے، اس کی اجرت بھی اسکے کٹے ہوئے دھان سے ادا کی جاتی ہے، کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو حیلہ کے ساتھ جائز کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟

جواب

اگر اس طرح معاملہ طے کیا جاتا ہے کہ اپنے دھان کاٹنے پر مجھ کو تیرے آج کاٹے ہوئے دھان میں سے اس قدر دیں گے، تو اجاره فاسدہ ہے،اگر اجرت میں مطلقاً دھان دینے کو کہا جاتا ہے اور یہ قید نہیں ہوتی کہ جو تو کاٹے گا انہیں میں سے دیں گے، یا مثلاً جو دھان کل یا پرسوں یا پہلے کے اس کے کاٹے ہوئے ہیں، اس کاٹے ہوئے میں سے قرار پاتا ہے تو یہ جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو