الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کھیت کا ساتواں یا دسواں حصہ اجرت میں دینا

سوال

اگر کاشتکار کھیت کاٹنے کے لئے مزدوروں کو مقرر کر لیتا ہے، اس بات پر کہ تم لوگ میرے دھان کاٹ کر میرے گھر میں لاکر گاہنے کے بعد جتنا دھان ہوگا ساتواں حصہ یا دسواں حصہ تم لوگوں کا ہوگا، اور باقی مالک کا ہے، اور اسی طرح کا شتکار اپنے کھیت سے مع مونگ کی دال اور مسور کی دال پر ساتواں یا دسواں حصہ مقرر کرتے ہیں، اور اسی حصہ مقررہ پر توڑتے ہیں، تو ان صورتوں میں کھیتیوں کا توڑنا جائز ہے یا نہیں، اگر جائز ہے تو کن صورتوں میں جائز ہے؟

جواب

اس صورت میں نا جائز ہے ”لانہ فی معنی قفيز الطحان وقد ورد النهي عنه“،جواز کی صورت یہ ہے کہ اجرت میں قیمت مقرر کی جاوے، یافی من کے حساب سے مقرر کی جاوے، مثلاً ایک من پر ایک یا دو سیر دینگے، اور یہ شرط نہ ہو کہ جو تم کاٹو گے، اس میں سے دینگے، خواہ ایک روز قبل کی کاٹی ہوئی رکھی ہوئی میں سے دیں یا بازار سے لے کر غرض شرط مذکورہ نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو