الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اجاره بالشرط

سوال

زید نے اپنا مکان اور نقد روپیہ قرض عمر کو اس شرط پر دیا کہ تم اس روپیہ کو اپنی تجارت میں لگاؤ اور مکان کو بطور گودام استعمال کرو لیکن شرط یہ ہے کہ تم کو ہمہ وقت بقدر قوت از مفروضہ ضمانت کے طور پر مال گودام میں رہنے دینا ہوگا، ہم تم سے صرف گوداموں کا کرایہ وصول کریں گے، روپیہ کا معاوضہ کچھ بھی نہیں لیں گے، بعد میں تم ہمارا روپیہ طلب کرنے پر صرف ہمارا روپیہ ادا کرنا، کرایہ گودام کے علاوہ ہم اور کوئی معاوضہ لینے کے حقدار نہیں ہوں گے، سوال یہ ہے کہ یہ صورت شرعاً درست ہے یا نہیں، یا اس میں بھی سود اور عدم جواز کا حکم…

جواب

مکان کرائے پر دینا مستقل معاملہ ہے، اور روپیہ قرض دینا مستقل ہے، جو روپیہ قرض دیا ہے، اس کے لئے بطور ضمانت یہ شرط لگائی جائے، کہ بقدر قرض مال گودام میں موجود رہنا چاہئے جیسے کہ رہن کو بطور ضمانت رکھا جاتا ہے، کہ اپنا قرض وصول کرنے میں کچھ سہولت رہے، اس صورت میں شرعاً سود نہیں ہے اگر مکان کرایہ پر دینے کے لئے اس طرح قرض اور گودام میں مال رکھنے کو شرط قرار یا جائیگا، تو اجارہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو