دوکان کا ٹھیکہ
سوال
موٹر کے سامان کی ایک دوکان ہے، جس میں پچاس ہزار کا سامان ہے اس میں چند آدمی شریک ہیں، شرکاء نے باہم مل کر ایک شریک کو دیدی، کہ پانچ سال تک دوکان چلا سکتے ہو ہر سال پندرہ ہزار ہمیں دینے ہوں گے، دوکان لینے والا شریک اگر چاہے تو دوسال کے بعد واپس کر سکتا ہے، پانچ سال کی مدت ختم ہونے پر دوکان مع سامان واپس لے لیجائے گی، جو شرکاء کی مشترک ہو جائے گی تو کیا یہ معاملہ قمار میں داخل ہے یا نہیں؟ اگر یہ صورت نا جائز ہے تو جواز کے پہلو سے مطلع فرمائیں؟
جواب
یہ صورت غلط ہے، ناجائز ہے، جواز کی صورت یہ ہے کہ جو شخص کام کرتا ہے اس کا حصہ منافع میں فیصد کے اعتبار سے کچھ زیادہ تجویز کر دیا جائے، بقیہ منافع سب شرکاء باہم حصہ رسد تقسیم کر لیں، پندرہ ہزار سالانہ متعین نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ سال بھر میں کس قدر نفع ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔