زمین اور باغ کا اجارہ
سوال
اگر کوئی آم کے باغ کا مالک دو چار سال کے لئے زمین اور درخت کسی کو دیدے تا کہ وہ زمین اور درختوں سے نفع اٹھائے پھل وغیرہ حاصل کرے، اور مالک باغ بدلے میں دو چار ہزار روپئے لے لے تو درست ہے یا نہیں؟
جواب
اجارہ میں شئی مستاجرہ سے نفع حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے، نہ کہ استهلاک اعیان، زمین میں کاشت کرنا اور اس سے غلہ حاصل کرنا تو اجارہ میں داخل ہے، لیکن مالک زمین کے درختوں سے پھل حاصل کرنا یہ اجارہ میں داخل نہیں ہے بلکہ یہ توبیع ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔