کیا فوج کی ملازمت درست ہے؟
سوال
اپنے ملک میں ہندوستان میں فوج میں مسلمانوں کو ملازمت کرنا کیسا ہے نیز جو مسلمان شخص فوج میں بھرتی ہے اور جب کہ اپنے ملک ہندوستان کا کسی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک سے مقابلہ ہو جائے اور جنگ شروع ہو جائے اور مسلم فوجی شخص اپنے ملک ہندوستان کی طرف سے جنگ میں ختم ہو جائے، تو اس مسلم مرحوم فوجی کو درجۂ شہادت کا مستحق سمجھا جائے گا، یا نہیں؟ نیز اس کو شہید کہنا درست ہو گا یا نہیں؟
جواب
ظالموں سے ملک کی حفاظت کے لئے فوج میں ملازمت کرنا درست ہے، اگر کسی ظالم نے چڑھائی کی اور یہ دفاع کرتا ہوا قتل ہو گیا، تو انشاء اللہ قتل شہید ہوگا، ”من قتل دون ماله من قتل دون دمه من قتل دون عرضه ان سب کو شہید فرمایا گیا ہے۔ غلط کام کیلئے ملازمت کرنا اور لڑنا جائز نہیں، اسپر شہادت کی امید رکھنا بھی غلط ہے، شہادت تو کیا ملتی، بعض صورتوں میں ایمان کا سلامت رہنا بھی دشوار ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔