گیسٹ ہاؤس کی آمدنی
سوال
ہم بمبئی میں ایک گیسٹ ہاؤس بنانا چاہتے ہیں، اس گیسٹ ہاؤس میں باہر سے آنیوالے بھی کچھ افراد ٹھہرتے ہیں، اور اکثر و بیشتر بمبئی کے ہی عیاش لوگ آکر روم بک کرواتے ہیں، اور اپنے ساتھ کوئی بھی لڑکی (عورت) لے کر دو یا تین گھنٹہ رہتے ہیں، اور کمرہ کا بھاڑا ۲۴ گھنٹہ کا چالیس یا پچاس روپیہ ادا کر دیتے ہیں، اور ٹک کر نیوالے یہ کہتے ہیں کہ ہم دونوں میاں بیوی ہیں اور ان کے ساتھ زیادہ تر سامان بھی نہیں ہوتا، تو اس صورت میں گیسٹ ہاؤس کا برنس (کاروبار) کرنا جائز ہے، اور اس کی کمائی حلال ہے یا حرام؟
جواب
مسافر خانہ بنانا اور اس میں ٹھہرنے کا کرایہ لینا درست ہے اس کوشش کے باوجود کہ وہاں برائی نہ ہونے پاوے، پھر بھی اگر آنے والے برائی کریں تو مسافر خانہ والوں پر اس کا گناہ نہیں ہوگا، اور کرایہ کی آمدنی کو نا جائز نہیں کہا جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔