باغ کو کرایہ پر دینا
سوال
اگر کوئی شخص ایسے باغ کو کہ جس کے اندر اس کی زمین کو کاشت کیا جا سکتا ہے، اس زمین کو پھل کے آنے سے پہلے دس بیگہ زمین کو سور و پیہ فی بیگہ کے حساب سے ایک سال کو دے سکتا ہے یا نہیں؟ اور ایک ایسے باغ کو جس کے اندر کاشت نہیں ہو سکتی اور اس باغ کو پھل آنے سے پہلے قاعدہ مذکورہ کے مطابق دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا دونوں کو پھل آنے سے پہلے دے سکتا ہے یا نہیں؟ ایک باغ کو دے سکتا ہے یا کون سے کو دے سکتا ہے؟
جواب
زمین کو مقررہ کرایہ پر لینا دینا مدت مقررہ ایک سال کے لئے شرعاً درست ہے، خواہ وہ کاشت کے قابل ہو یا نہ ہو، باغ (درختوں) کو کرایہ پر لینا دینا درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔