الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نشہ آور دوا بیچنے کا کرایہ

سوال

میں ایک پختہ دوکان کا مالک ہوں جس کو میں نے ایک شخص کو کرایہ پر دے رکھا ہے، جس نے اس میں میڈیکل اسٹور (انگریزی ادویات) کھولا تھا، جنجر بھی ایک دوا ہے، لیکن چونکہ اس میں نشہ ہوتا ہے، اس لئے وہ شراب کی جگہ لوگ استعمال کرتے ہیں، اور وہاں کافی مجمع رہتا ہے، میں نے دوکاندار سے متعدد بار اس سلسلہ میں باز پرس کی اور دوکان خالی کرنے کے لئے کہا لیکن وہ کوئی توجہ نہیں دیتا، اور چونکہ وہ برابر ماہ بماہ کرایہ ادا کرتا ہے، اس لئے اس کو قانونی حیثیت سے بھی خالی نہیں کرایا جا سکتا، اگر میں دست بدست کرایہ نہ لوں تو وہ منی آرڈر…

جواب

اس کی دوکان میں پاک اور جائز دوائیں بھی تو ہوں گی، ان کی وجہ سے کل آمدنی کو نا جائز نہیں کہا جائیگا، نہ اس سے حاصل شدہ کرایہ کو نا جائز کہا جائیگا، اس لئے آپ پریشان نہ ہوں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو