حکومت دوسرے شخص کو کرایہ دار بنا دے درست ہے
سوال
ہمارے شہر میں یہ قانون نافذ ہے، کہ کسی کرایہ دار نے فلاں سال اور تاریخ سے پہلے کسی کو اپنے کرایہ کی دوکان دیگر ماتحت کرایہ دار بنا رکھا ہے، اور ماتحت کرایہ دار سے غیر واجب کرایہ وصول کرتا ہے، یہ ماتحت کرایہ دار عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرے تو عدالت ثبوت مہیا کرنے کے بعد مالک مکان کو آرڈر دیتی ہے کہ اس ماتحت کرایہ دار کو اصل کرایہ دار بنا لیا جائے، سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان حکومت کے اس قانون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
جواب
ایک شخص کا کرایہ کا معاملہ حکومت ختم کر کے دوسرے شخص کو کرایہ کا حق دیدے تو اس شخص کو کرایہ دار بنانا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔