اجاره صحیحہ دوکان کرایہ پر دینا اس شرط پر کہ جب چاہیں خالی کرالیں
سوال
ہماری برادری میں مندرجہ ذیل مقدمہ در پیش ہے، جس میں مدعی مدعی علیہ کی یہ رائے ہے۔ شمس الدین نے اپنی دوکان محمد یسین کو کرایہ پر دی، اور شرط کر لی کہ جس وقت مجھے خود کی ضرورت ہوگی، دوکان خالی کرنا پڑے گی، اس شرط کو محمد یسین نے منظور کر لیا، اس کے بعد ضرورت ہونے پر محمد یسین نے انکار کر دیا، شمس الدین نے محمد یسین سے دوکان کا مطالبہ کیا تو یاسین نے انکار کر دیا، اور ٹلا دیا کہ کچھ دیر بعد اس شرط پر خالی کر دی کہ از سرِ نو تعمیر ہونے پر اسی سے ایک دوکان مجھے دینا یا اور کوئی دوکان دلوا دینا، چنانچہ دوکان خالی ہوگئی،…
جواب
شمس الدین نے دوکان محمد یسین کو کرایہ پر دی اور یہ شرط کر لی کہ جس وقت مجھے خود کی ضرورت ہوگی، دوکان خالی کرنی پڑے گی، اس شرط کو محمد یسین نے منظور کر لیا، اس کے بعد شمس الدین نے محمد یسین سے مطالبہ کیا تو محمد یسین نے انکار کر دیا، اور ٹلایا، کچھ دیر بعد اس شرط پر خالی کی کہ از سرِ نو تعمیر پر ایک دوکان مجھے دینا یا اور کوئی دوکان دلوا دینا، چنانچہ دوکان تعمیر ہوگئی، تعمیر کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔