الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

سوال

گزارش خدمت یہ ہے کہ از روئے شرع بینک کے لئے عمارت کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور کرا یہ حلال ہوگا یا نہیں؟ اطلاعاً عرض ہے کہ بینک دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک تو وہ جس میں اکثر حصہ سودی لین دین کا ہوتا ہے، اور کچھ دوسرے کا روبار بھی ہوتے ہیں مگر کم، دوسرے وہ بینک جس میں اکثر کاروباری معاملات چلتے ہیں اور کچھ سودی لین دین بھی ہوتا ہے، براہ کرم کرایہ کے سلسلہ میں دونوں قسم کے بینکوں کا حکم تحریر فرمائیں؟

جواب

امام اعظمؒ کے نزدیک عمارت کرایہ پر دینا درست ہے، مستاجر جس کام میں بھی استعمال کرے، وہ اس کا فعل ہے صاحبین کے نزدیک ناجائز کام کے لئے کرایہ پر دینا مکروہ و ممنوع ہے، کام مخلوط ہو تو غالب کا اعتبار ہوگا، پس دوسرے قسم کے بینک کے لئے بالا تفاق درست ہے، اور پہلی قسم کے بینک کے لئے عمارت کرایہ پر دینے میں امام صاحب کے نزدیک گنجائش ہے، ”وهو الاوسع“ اور صاحبین کے نزدیک مکروہ و ممنوع…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو