زنا پر مالی جرمانه
سوال
چودھری پیر محمد اور ان کے پارٹنر ملا چودھری اور حمید اور متولی مسجد عبدالستار کے بارے میں جو ایک روز نور محمد کے گھر مٹھائی دینے آئے، مٹھائی لینے پر دریافت کیا تو مذکورہ مٹھائی دہندگان نے جواب دیا یہ مٹھائی حرام ہے، ہم نے وہ مٹھائی واپس کر دی، کیونکہ مسلمان حرام نہیں کھاتا ہے، اس پر پیر محمد چودھری نے ہم کو مجرم کہہ کر کے برادری سے الگ کر دیا، تحقیق کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ ایک زانیہ سے لیا گیا زنا کا جرمانہ ایک سو پانچ روپیہ کی مٹھائی چودھریوں نے پوری برادری کے دو سو گھروں کو تقسیم کی مٹھائی تقسیم کرنے سے پہلے…
جواب
زناکاری حرام ہے مگر اس جرم پر مالی جرمانہ کرنا درست نہیں، جرمانہ لیکر اس کی مٹھائی کھانا اور کھلانا جائز نہیں ”و الحاصل ان المذهب عدم التعزير باخذ المال (شامی) چودھریوں کو یہ مسئلہ بتا دیا جائے کہ ان کو لازم ہے کہ اس طریق سے توبہ کریں، ایسی چیزوں میں چودھریوں کی بات پر عمل کرنا جائز نہیں ہے، اور ایسے شخص کی امامت مکروہ تحریمی ہے، تمام برادری کو ضروری ہے کہ اپنے چودھریوں کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔