بدچلنی سے روکنے کے لئے کسی عضو کو معطل کر دینا
سوال
ایک شریف خاندان کی لڑکی آوارہ اور سخت بد چلن ہوگئی ہے، بہر چند روک تھام کی جاتی ہے، مگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی، ایسی صورت میں کسی دوا سے یا کسی عمل سے لڑکی مذکورہ کے جسم کے کسی حصہ کو بے حس وحرکت بنادینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
سوال بہت مجمل ہے، جس سے صاف طور پر مطلب حل نہیں ہوتا، اگر یہ مقصود ہے کہ کسی عضو کو معطل کر دیا جائے یا قطع کر دیا جائے، تاکہ اس کی بد چلنی موقوف ہو جائے، تو ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختصاء کی اجازت نہیں دی، واما خصاء الأدمى فحرام اھ در مختار، ج۵ ص ۲۷۵
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔