الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ثبوت زنا

سوال

زید نے بکر پر تہمت زنا لگا کر دو گواہ بمعہ اپنے پیش کئے دو گواہوں کی شہادت لیکر بکر پر بکرا یا نقد روپیہ جرمانہ بطور کفارہ لگا کر فیصلہ دیا، التماس ہے کہ تہمت زنا کے ثبوت کے لئے دو گواہ کافی نہیں، یا شرعی طور پر مذکورہ کفارہ ہو سکتا ہے، اگر وہ گواہ کافی نہیں تو گواہوں کے لئے کیا حکم ہے؟ اور جو مال تہمت زنا والے سے لیا گیا، وہ کھانا حلال ہے، یا حرام؟

جواب

یہ فیصلہ شریعت کے خلاف ہوا ثبوت زنا کے لئے دو گواہ کافی نہیں، چار عینی گواہ ضروری ہیں، اگر چار عینی گواہ موجود نہ ہوں تو تہمت لگانے والے اور گواہی دینے والوں پر دارالاسلام میں حاکم اسلام حد قذف جاری کرے گا، اگر شرعی شہادت سے زنا کا ثبوت ہو جائے،تو حاکم اسلام دار الاسلام میں حد زنا جاری کرے گا ” ويثبت (الزنا)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو