الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زنا کی سزا

سوال

حدیث شریف میں لکھا ہے کہ اگر زنا کا رمرد اور عورت سات سمندر میں غسل کرے، تب بھی پاک نہیں ہو سکتا، اور اس کے غسل کے چھینٹوں سے شیاطین پیدا ہو کر زنا کاری کرتے ہیں، اور یہ سب زانی کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے ہیں،اگر وہ توبہ کر کے پھر یہ کام کرے تو اس کی عبادت قبول ہوگی یا نہیں؟ اور اگر زنا کار کنوارہ ہے تو سودڑے اور اگر شادی شدہ ہے تو سنگسار کیا جائے گا، یہ سزا تو دنیا کی ہے اور آخرت میں کیا سزا ہو گی؟

جواب

توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتے ہیں، اور عبادت کو قبول کرتے ہیں، اور گناہ کو معاف فرماتے ہیں، اور آخرت کے عذاب سے بچاتے ہیں زانی کے غسل اور اس کے چھینٹوں سے شیاطین کا پیدا ہونا جو ہمیشہ زنا کرتے رہیں کسی حدیث سے ثابت نہیں، البتہ رجم اور دروں کی سزا ثابت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو