نابالغ بچہ کا ہدیہ قبول کرنا
سوال
نابالغ کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟ تذکرۃ الخلیل بیان سفر حج و زیارت بلدة الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جائز لکھا ہے، اور بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ ماں کو اپنی نابالغ لڑکی سے تھوڑی دیر کے لئے مستعار اوڑھنی لیکر کہیں جانا جائز نہیں ہے، بہشتی زیور سے یہ معلوم ہوا، کہ نابالغ کے مال میں سے کسی کو اپنی ذات کے لئے کوئی تصرف جائز نہیں حتی کہ والدین کو بھی، اور مولوی مسعود صاحب نائب مفتی دارالعلوم دیو بند نے بھی یہی بتلایا کہ نا بالغ سے ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں، مگر تذکرۃ الخلیل میں جائز لکھا ہے، اس لئے شبہ واقع ہوا…
جواب
نابالغ اگر اپنے مال میں سے ہدیہ دے تو اس کا قبول کرنا جائز نہیں، جواز کے لئے بلوغ شرط ہے والدین اگر اپنا مال دے کر نا بالغ سے کہیں کہ یہ ہدیہ فلاں شخص کو دیدو تو اس کا قبول کرنا درست ہے کہ وہ در حقیقت نابالغ کا نہیں بلکہ والدین کا ہے، اور بچوں کو ہدایا پیش کرنے کا عادی بنانے کے لئے، والدین ایسا کرتے ہیں، اور یہ چیز کبھی صراحت ہوتی ہے، کبھی دلالة تذكرة الخلیل، ص ۶۸/ میں جو امام…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔