بچوں کا ہدیہ
سوال
در مختار کتاب الماذون جلد خامس میں یہ عبارت لکھی ہے: تصرف الصبى والمعتوه ان كان نافعاً كالإسلام والاتهاب صح وان ضاراً كالطلاق والعتاق والصدقة و القرض، ص ۱۱۳۱ ج ۵ خط کشیدہ عبارت سے اور شامی میں ”وكذا الهبة والصدقة وغيرهما قهستاني،ص ۱۱۳/ ج ۵/ ہبہ کے متعلق بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ہدیہ صبی کا ناجائز ہونا چاہئے لیکن اکمال الشیم کے مقدمہ میں حضرت شیخ الحدیث سہارنپوری نے حضرت گنگوہی کا ایک خط نقل کیا ہے، اس میں ہدایا اطفال کو جائز لکھا ہے، ہدیہ کا ہبہ اور صدقہ وغیرہ سے مختلف ہونا اور دونوں کے درمیان فرق سمجھ میں نہیں آیا،…
جواب
اصل مسئلہ تو وہی ہے جو درمختار اور شامی میں ہے، مقدمہ اکمال الشیم میں جو کچھ مذکور ہے، اس کا مصداق یہ ہے کہ اولیاء اپنے چھوٹے بچوں کو عادی بنانے کے لئے ان کی معرفت اور ان کے ہاتھ سے اور یہ بتا کر کہ چیز بچوں کی ہی ہے، اس کو بچے اپنی طرف سے اپنے أستاذ کی خدمت میں ہدیہ پیش کر دیں، صورة تو مہدی بچہ حقیقہ اس کا ولی مہدی ہے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔