مخنث پڑوسی کے نل کا پانی اور ہدیہ
سوال
زید کے پڑوسی میں ایک مخنث ہے جس کے گھر میں پانی کا نل لگا ہوا ہے، زید اس کے نل کا پانی استعمال کرتا ہے، آیا زید کے لئے پانی لینا جائز ہے یا نہیں؟ مخنث سود بھی لیتا ہے، گانے بجانے کا کام بھی کرتا ہے، مگر نل سود لینے سے پہلے لگایا تھا، البتہ گانے بجانے کا کام ابتداء سے کرتا ہے، مخنث زید کو کبھی کبھی کوئی کھانے پینے کی چیز بھی دیدیتا ہے جو زید کو پڑوسی ہونے کی بنا پر لینی پڑتی ہے۔
جواب
اس کے سود لینے اور مخنث ہونے کی وجہ سے نل کا پانی تو نا پاک و نا جائز نہیں، البتہ جو چیز وہ ناجائز طور پر لا کر دے اس کو نہ لیا جائے، بلکہ اس سے اس قسم کا تعلق نہ رکھا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔