الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوستی میں کھلائے ہوئے کا مطالبہ

سوال

دو شخص نے آپس میں دوستی کی ایک مدت تک ہر ایک نے دوسرے کو دوستانہ میں کھلایا پلایا، اور نقدی بھی دیتے رہے، کچھ دنوں بعد ان میں پھوٹ پڑ گئی، ایک نے کہا کہ میرا کھلایا، پلایا ہوا اور نقدی واپس کر دو، دوسرے نے کہا کہ حساب کرلے، اگر چہ یہ برا ہے، لیکن میں تیار ہوں، چنانچہ حساب ہوا، دوسرے نے کہا کہ میرا حساب کر، دونوں کا حساب ہوا، ایک کے ذمہ زائد رقم پائی گئی، تو اس قسم کے دوستانہ میں خرچہ کا حساب قرض میں شمار ہوگا، اگر نہ دیا گیا تو کل قیامت میں مواخذہ تو نہیں ہوگا؟

جواب

کھلاتے، پلاتے، اور نقد دیتے وقت نہ زبان سے اس کو قرض قرار دیا، نہ ذہنوں میں تھا کہ یہ قرض ہے بلکہ دوستانہ تعلقات میں یہ سب کچھ ہوا، تو اس کو قرض نہیں کہا جائیگا، اور اس کا مطالبہ درست نہیں ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو