الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بچوں کا ہدیہ استاذ کو

سوال

(۱) انفاس عیسی، ص ۳۷۸ میں ایک مسئلہ نظر پڑا، عبارت تو سامنے نہیں کہ بچوں کے ہاتھ سے روپیہ خرچ کر دیا کرے لیکن بچوں کو اباحت کے طور پر دے ان کی ملک نہ بنائے، ورنہ نا جائز ہوگا، کیونکہ بچہ اپنے مال کا مالک نہیں ہوتا، پھر تذکرۃ الخلیل، ص ۱۲۰ پر مکتوب حضرت گنگوہی میں یہ مسئلہ درج ہے، ہدیہ اطفال اور ہدیہ ورثہ اطفال کا لینا جائز ہے، میرے ناقص علم میں دونوں مسئلوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے، کہ جب بچہ کی ملک بنادی گئی تو اپنے مال سے ہدیہ کسی کو دے تو کسی صورت سے جائز ہوسکتا ہے، کہ ہدیہ اور ہبہ وغیرہ میں فرق ہو، حضرت تھانوی…

جواب

(۱) ہمارے اطراف میں یہ دستور ہے کہ ماں باپ بچوں کو کبھی نقد کبھی اور کوئی چیز دیتے ہیں، کہ اپنے استاذ کی خدمت میں پیش کر دینا، تو در حقیقت معطی، مہدی، واہب والدین ہوتے ہیں اہاں بچوں کی معرفت دیتے ہیں، تا کہ بچوں کو بھی اس کی عادت ہو، اس کو حضرت گنگوہی نے فرمایا ہے کہ جیسا تذکرۃ الخلیل میں ہے، اور حضرت تھانوی کی تحریر کے خلاف بھی نہیں ہے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو