الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک شخص نے قرآن شریف خرید کر ہبہ کیا اس نے دوسرے کو ہبہ کیا تو کس کو ثواب ملیگا

سوال

اگر کوئی شخص اپنے پیسے سے کلام پاک لیکر دوسرے شخص کو بنیت ثواب بالکل ہبہ کردے، پھر دوسرا شخص تیسرے کو اور تیسرا چوتھے کو دیتا چلا جائے تو عطیہ کے اعتبار سے ثواب کا کون شخص مستحق ہے، آیا پہلا شخص یا ہر ایک شخص؟ نیز اگر چوری کر کے کلام پاک اٹھا لیا جائے، تو شخص اول کو ثواب ملیگا، یا نہیں؟ نیز غریب آدمی اور امیر آدمی دونوں کو دینے میں ثواب برابر ہے، یا کمی زیادتی ہوگی؟ اگر کوشش اپنی طرف سے نہیں بلکہ اپنے ماں، باپ، دادا، دادی وغیرہ کی طرف سے دے تو جس کی طرف سے دیا ہے یہ عطیہ اس کے لئے صدقہ جاریہ بنے گا یا نہیں؟

جواب

قرآن پاک ہدیہ کرنے میں تو سب کا ثواب برابر ہے مگر اس اعتبار سے کہ پہلے شخص نے خرید کر (پیسے خرچ کر کے) دیا ہے، اس کا ثواب زیادہ ہے، دوسرے لوگوں نے جن کے پاس مفت آیا تھا وہی دیدیا، نیز پہلا شخص دوسروں کو دینے کیلئے سبب بنا اس لئے بھی اس کا ثواب زیادہ ہے علاوہ ازیں جس میں جس قدر اخلاص زیادہ ہوگا، اسی قدر وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوگا چوری کر نا سخت معصیت اور کبیرہ گناہ ہے، جو شخص…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو