الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خدمت گار لڑکی کو دیکر دوسروں کو محروم کرنا

سوال

خلیق میاں کی پہلی بیوی سے تین لڑکیاں ہیں، اس بیوی کے مرنے کے بعد دوسری عورت سے شادی کی اس دوسری بیوی سے ایک لڑکی ہوئی، پھر تیسری شادی کی لیکن اس سے ایک بھی اولاد نہیں ہے، اور تیسری بیوی ابھی تک زندہ ہے، خلیق میاں اور اس کی بیوی کافی ضعیف ہو چکے ہیں، اور چاروں لڑکیاں اپنی سسرال میں رہتی ہیں، خلیق میاں نے اپنی چاروں لڑکیوں کو اپنی خدمت کے لئے بلایا، تو تین لڑکیوں نے انکار کر دیا، اور صرف ایک لڑکی خدمت کے لئے تیار ہوئی، اب اگر خلیق میاں اپنی پوری جائیداد اس لڑکی کو دیدے جو خدمت کے لئے تیار ہے تو کیا شرعاً جائز ہوگا،…

جواب

لڑکیاں سب ترکہ میں برابر کی شریک ہونگی، جس نے خدمت کی ہے، اس کو سعادت حاصل ہوئی، جنہوں نے بلا مجبوری کے انکار کیا وہ اس سعادت سے محروم ہیں، لیکن میراث سے محروم نہیں ہونگی، اگر اس رنج کی وجہ سے باپ نے ساری جائیداد اس خدمت گزار لڑکی کو دیدی اور بقیہ کو محروم کر دیا تو باپ کو گناہ ہوگا، ایسا نہیں کرنا چاہئے، تقسیم ترکہ کا سوال مرنے کے بعد ہوتا ہے، زندگی میں نہیں ہوتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو