حالت احرام میں کیا عورت منہ کھولے رکھے
سوال
اسلام میں ہر زیبائش کی جگہ کو چھپانے کا حکم ہے، اور سختی سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مگر عورتیں جب حج کو جاتی ہیں، تو عموماً چہرہ، ہاتھ وغیرہ کھلا رکھتی ہیں، کیونکہ احرام کے زمانے میں چہرہ کو کپڑا لگانا سختی سے منع ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس طرح کھلا رکھنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس طرح چہرہ کھلا رہنا گناہ ہے، اس لئے ایسا انتظام کریں کہ چہرے کے سامنے ٹی یا کسی قسم کا فریم لگا کر نقاب اوڑھا جائے، تا کہ چہرہ ڈھکا ہوا رہے، بے پردگی نہ ہو، مگر اس سے عورتوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے، بلکہ ان کا دھیان مکمل طور پر عبادت کی طرف…
جواب
عورت کے چہرے پر کپڑا نہیں ہونا چاہئے، پنکھا وغیرہ کوئی چیز اس طرح آڑ بنالی جائے کہ نقاب کا کپڑا چہرہ کو نہ لگے، اور لوگوں کی نظر اس پر نہ پڑے، احرام کی حالت ایسی بے اطمینانی کی ہوتی ہے، کہ مرد بھی سلا ہوا کپڑا نہیں پہن سکتا، ہر وقت فکر رہتی ہے کہ جسم نہ کھل جائے، اس صورت سے وہ مناسک حج ادا کرتا ہے، عورت کو بھی بے اطمینانی ہو تو کیا مضائقہ ہے؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔