الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حالت احرام میں شکار کی ممانعت

سوال

بحالت احرام خشکی کے شکار کی ممانعت ہے، دریائی شکار کی نہیں ایسا کیوں؟

جواب

اللہ پاک نے ایسا ہی فرمایا ہے، ”احل لكم صيد البحر وطعامه متاعاً لكم وللسيارة وحرم عليكم صيد البر مادمتم حرما” اور وہ حاکم بھی ہے، اور حکیم بھی ہے، اسکے نازل فرمائے ہوئے، قانون میں کسی کو چون و چرا (کیوں کا سوال) کا حق نہیں جو چاہے کرے، “لا یسئل عما يفعل”، بندوں کا فریضہ اطاعت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو