حالت احرام میں بضرورت حیض روکنے والی دوا کا ستعمال
سوال
میری بیگم صاحبہ میری معیت میں حج کو جارہی ہے، اب اس دوران کئی مسائل کا پوچھنا ضروری ہے؟ (۱) اگر بیگم صاحبہ کو ایام حج میں حیض آگیا تو شرعاً حج پورا کرنے کی کیا صورت ہے اور اس کے ازالہ کی صورت ڈاکٹری طور پر یوں بھی ہے کہ ایک قسم کی دوا استعمال کی جاتی ہے جس سے حیض رک جاتا ہے، یا کچھ دن پیچھے آتا ہے، کیا یہ طریقہ جائز ہے جب کہ مقصد اونچا ہے؟
جواب
وقوف عرفات بحالت حیض ہو تو بھی درست ہے، البتہ طواف زیارت حیض سے فراغت پر کیا جائے، اسکی وجہ سے تاخیر ہو جائے، تو مضائقہ نہیں ہے اگر حیض ایسے وقت پر آئے کہ اسکے ختم تک انتظار کرنے سے واپسی کا جہاز نہیں ملے گا، تو مجبوراً ایسی دوا استعمال کر لی جائے، جس سے حیض تاخیر سے آئے تا کہ اس سے پہلے ہی طواف زیارت سے فراغت ہو جائے، صفا مروہ کے درمیان سعی حالت حیض میں درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔