حج بدل کے بعد جو رقم زائد بچے اس کا حکم
سوال
سید مبارک صاحب نے اپنی والدہ کی طرف سے عبدالحفیظ کو حج بدل میں بھیجا بوقت روانگی ان کے صاحبزادہ سید وسیم نے دوسوروپئے دیئے کہ میرا سامان لیتے آنا، حسب تحریر عبدالحفیظ نے وسیم الحق کو بعض سامان لا کر دیا اور بعد حساب باقی رقم واپس دے گئے، نیز حج کا کل حساب بھی ان کے والد سید مبارک حسین صاحب کو دیدیا، اور جو سامان فرمائش خریدا گیا وہ سوروپے کا نوٹ چالیس کے حساب سے سامان کے بدلہ میں دیا گیا، مگر موصوف نے گراں جان کر واپس کر دیا، سفر حج میں جو ریال حاجی کے پاس باقی اخراجات سے زائد ہوئے ان کی واپسی ہندوستان میں ہو یا…
جواب
اگر عبدالحفیظ کے پاس اخراجات سفر پورے کرنے کے بعد کچھ باقی بچا اور وہ عربی ریال کی صورت میں ہے تو وہی واپس کر دے اگر ہندوستانی نوٹ بنائے تھے تو وہ واپس کر دے، اگر گورنمنٹ کے حساب والے نوٹ بچے تو وہ واپس کر دے، اگر عبدالحفیظ کے کچھ ریال زیادہ خرچ ہو گئے اور وہ سید مبارک حسین صاحب سے وصول کرنا چاہتا ہے تو اسکی بھی یہی تفصیل ہے، یعنی وہاں پہنچ کر جو کچھ زائد خرچ کیا وہ اگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔