حج بدل میں روپیہ مامور کو دیں یا اپنے پاس رکھیں
سوال
ایک شخص خود حج کرنے جا رہا ہے اور دو شخصوں کو اپنے والدین کی طرف سے حج بدل کرانے لے جا رہا ہے تو اخراجات کیلئے روپیہ مامور کو دیدینا زیادہ بہتر ہوگا، یا اپنے پاس رکھ کر ان کی ضروریات میں خرچ کرنا، ان کو ہر ہر چیز کا پھر حساب بھی مشکل ہے؟
جواب
اگر یہ اعتماد ہو کہ وہ روپیہ حفاظت سے رکھیں گے اور بے محل خرچ نہیں کریں گے، اور مقصد وصیت بھی فوت نہیں ہوگا، تو ان کو دیدینا بہتر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔