الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حج بدل کی رقم میں تصرف کرنے کا ضمان

سوال

(۱) زید نے اپنے والد مرحوم کا حج بدل کرانے کے متعلق اپنے بہنوئی کو تیار کیا، اور اس نے متواتر دو سال درخواست دی مگر قرعہ میں نام نہ آسکا کچھ رقم زید نے اپنے بہنوئی کو بہ سلسلہ درخواست اور فارم بھرنے کیلئے دیا تھا، جو تقریباً ایک ہزار ہے، وہ بہنوئی نے بغیر زید کے علم میں لائے، اپنے بھانجے کو تجارت کے سلسلہ میں دیدی، اس کے بارے میں علماء دین کیا فرماتے ہیں، کہ آیا وہ روپیہ جو زید کا تھاوہ زید کے بہنوئی نے جو خرچ کر دیا جائز ہے یا نہیں؟ (۲)

جواب

۳/۲/۱ اگر والد مرحوم نے اپنی طرف سے حج بدل کرانے کی وصیت نہیں کی تھی بلکہ زید خود ہی انکی طرف سے حج بدل کرانے کی نیت کر چکا ہے، اور اس مقصد کیلئے روپیہ رکھا ہوا ہے، تو محض اس نیت کی وجہ سے حج بدل کرانا واجب نہیں ہوا، زید اس روپیہ کا مالک ہے اسکو اختیار ہے، کہ کسی بھی دینی کام میں لگا کر والد کو ثواب پہنچا دے، مثلاً کسی مسجد کی تعمیر یا پانی اور نل کا انتظام یا دینی مدرسہ کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو