میت کی طرف سے حج بدل بلا وصیت
سوال
تحمیل القبور ترجمہ شرح الصدور میں منجملہ چند احادیث کے ایک حدیث کا یہ مضمون ہے بز ار اور طبرانی نے بسند حسن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ میرے والد کا انتقال ہو گیا، انہوں نے حج اسلام یعنی حج فرض ادا نہیں کیا تھا، تو آپ نے فرمایا کہ مجھ کو یہ بتا کہ اگر تیرے باپ کے ذمہ کسی کا قرض ہوتا کیا اس کی جانب سے تو ادا کرتا تو اس نے عرض کیا کہ ہاں ضرور کرتا، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی تو اس کے ذمہ قرض ہے، سو تو…
جواب
میت کی طرف سے حج کرانا اس وقت واجب ہے، جب کہ اس نے وصیت کی ہو وہ بھی ثلث ترکہ سے بغیر وصیت واجب نہیں، اگر بغیر وصیت کوئی وارث اپنے حصے سے حج ادا کرا دے، یا اپنی طرف سے اپنے مال سے ادا کر دے تو امید ہے کہ وہ میت مواخذہ سے بری ہو جائے ہے حدیث کا مطلب بھی یہی ہے کہ میت کو مواخذہ سے بچانے کے لئے حج ادا کر دو، یہ مطلب نہیں کہ اگر ج نہیں کرو گے، تو تم سے مواخذہ ہوگا، اور ترکی تقسیم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔