والد مرحوم کی طرف سے حج بدل
سوال
زید کے والد مرحوم پر حج فرض تھا، مگر نادانی اور غفلت کی وجہ سے فریضہ حج ادا نہیں کر سکے، یہاں تک کہ ان پر ایسا بھی وقت آ گیا کہ وہ بہت مقروض ہو گئے، اور مقروض ہو کر انتقال کر گئے، اور اپنے حج کی کوئی وصیت نہیں کی، وصال کے بعد زید نے والد مرحوم کا سب قرض ادا کر دیا، اب اسکے دل میں خیال گذرا کہ والد مرحوم کی جانب سے حج بدل کرادے، اور اس فریضہ سے بھی ان کو سبکدوش کرا دے، مگر زید پر بھی حج فرض ہے، اور نقد روپیہ اتنا نہیں کہ خود بھی حج کیلئے جائے، اور والد کا حج بدل بھی کر دے تو اب مقدم کس کو کرے، خود یا والد مرحوم کو،…
جواب
والد نے حج بدل کی نصیحت نہیں کی تو ان کی طرف سے حج بدل کرانا فرض نہیں ہے اور خود زید کے ذمہ حج فرض ہے، لہذا اپنا حج فرض اول ادا کرے، پھر اگر وسعت ہو تو والد کی طرف سے بھی حج ادا کر دے، ان کو بھی ثواب پہنچ جائیگا، جس معیار کے آدمی سے جس قدر روپیہ بھی خرچ کر کے حج ادا کرا دے گا، اسی قدر ثواب پہنچ جائے گا، اگر انہوں نے وصیت کی ہوتی، تو ادائے فرض کا حتمی حکم کیا جاتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔